15 مئی 2012 - 19:30

پندرہ مئی کادن نہ صرف فلسطینیوں بلکہ تمام مسلمانوں کےلئے ایک تلخ اوردردناک دن ہے۔

ابنا: انیس سواڑتالیس میں آج ہی کےدن برطانیہ اور صہیونیوں کی سازشوں کےنتیجےمیں فلسطین میں اسرائیلی ریاست کےوجود کااعلان کیاگیا۔اسرائیل کےہاتھوں فلسطین پرقبضہ ان سازشوں کانتیجہ تھا جو اٹھارہ سوستانوےمیں سوئیزرلینڈکےشہربال میں تیارکی گئی تھیں اورکچہ مراحل طےکرنےکےبعد فلسطین پربرطانیہ کی سرپرستی اورانیس سوسترہ مین بالفوراعلامیےکےذریعے فلسطین میں صہیونی ریاست کی تشکیل کےمقدمات فراہم ہونےکی زمین ہموارہوئي ۔

یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ انتیس نومبرانیس سوسینتالیس میں اقوام متحدہ نےقراراداد ایک سواکاسی جاری کرکے فلسطین کوعربوں اوریہودیوں کےدرمیان تقسیم کردیا۔ امریکہ اوربرطانیہ سمیت تیئس ملکوں نے فلسطین کی تقسیم کےحق میں ووٹ دیئے۔ قرارداد ایک سواکاسی فلسطین پرقبضےکےایک سال پہلےجاری ہوئی اور صہیونی ریاست کی تشکیل اورفلسطین کوعالم اسلام سےالگ کرنےکی سازش کی تصدیق ثابت ہوئي ۔پندرہ مئی انیس سواڑتالیس ميں جب سے اسرائیل نےباقاعدہ اپنےوجود کااعلان کیاہے اس وقت سےاب تک فلسطینیوں کےحصوں میں رنج وغم اور مھاجرت وجلاوطنی کےسواکچہ نہيں آیاہے۔

فلسطینی عوام نےاس دن کو روزنکبت ومصیبت قراردیا ہے اور وہ ہرسال آج ہی کےدن مظاہرےکرکےعالم اسلام کےسامنےایک مظلوم قوم کی تلخ یادوں کوتازہ کرتےہیں۔اس وقت تقریباپچاس لاکھ فلسطینی مختلف ملکوں میں مسائل ومشکلات سےبھری جلاوطنی کی دردناک زندگی بسرکررہےہيں۔ جبکہ مقبوضہ فلسطین کےمختلف علاقوں میں صہیونی کالونیوں کی تعمیرکاسلسلہ جاری ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں فلسطینیوں کےمکانات کوڈھایاجارہاہے اور بیت المقدس بالخصوص اس کےمشرقی علاقوں کی آبادی کےڈھانچے کوتبدیل کیاجارہاہے جوکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کےمطابق مقبوضہ علاقہ ہے اور اس میں اسرائیل کوکسی طرح کے دخل وتصرف کاحق نہيں ہے۔

یہ ایسےعالم میں ہےکہ فلسطین پرقبضےکےدوران صہیونی ریاست نےفلسطینیوں کےخلاف ہرطرح کےجرائم کاارتکاب کیاہے۔ اورجب بھی اسرائیل یااس کےاصلی حامی امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات کی بات کی گئي ہے صہیونی ریاست نےفلسطینیوں سےمزید مراعات حاصل کرنےکےلئےکوئي نہ کوئي سیاسی چال چلی ہے۔

بہت سےسیاسی حلقوں کاخیال ہےکہ اگرامریکہ اور بعض یورپی ممالک صہیونی ریاست  کی حمایت نہ کرتےتو اسرائیل اس حد تک فلسطینیوں پرمظالم نہ کرتا۔اس سلسلےمیں اگر غورکیاجائےتویہ کہاجاسکتاہےکہ سب سےزیادہ ظلم عرب حکومتوں نےکیاہے جنھوں نے صہیونی ریاست  کےساتھ سازباز کرکے یا اسرائیل کےسامنےپسپائي اختیارکرکے مزیدغاصبانہ قبضےکی زمین ہموارکی ہے۔

اس میں کوئي شک نہيں کہ اگرعرب اوراسلامی ممالک کی کوتاہی، کمزوری اور گروہ بندیاں نہ ہوتیں تو آج ہمیں ملت فلسطین کی مظلومت نہ دیکھناپڑتیں۔ عرب حکومتیں،گذشتہ ساٹھ برسوں سے فلسطینی اہداف کےساتھ خیانت کررہی ہیں اس کےباوجود ملت فلسطین بھرپوراستقامت کامظاہرہ کررہی ہے۔........

/169